کن فیکون کے راز سے دجال کے دھوکے تک, اختیار، حسد اور فریب کی داستان

میاں افتخار احمد

ازل کی خاموشی سے ابد کے شور تک کائنات کی پوری داستان دراصل انسان اور اختیار کی کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جو اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب وقت کی سوئیاں ابھی پیدا نہیں ہوئی تھیں، جب مکان کی وسعتیں سمٹی ہوئی تھیں، جب مادہ توانائی کے سمندر میں تحلیل تھا اور جب انسانی عقل جسے عدم کہتی ہے وہ دراصل رازِ کن فیکون کی دہلیز تھی، اس لمحے صرف ایک ذات موجود تھی، الحی القیوم، وہ واجب الوجود ہستی جو کسی تعریف، کسی گواہی اور کسی سہارے کی محتاج نہیں، وہی ذات جسے ہم اللہ کہتے ہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں آ کر سائنس کے تمام قوانین خاموش ہو جاتے ہیں، جہاں ریاضی کے فارمولے دم توڑ دیتے ہیں اور جہاں کوانٹم فزکس کی سنگولیریٹی بھی سجدے میں گر جاتی ہے کیونکہ سائنس بگ بینگ کی بات تو کرتی ہے مگر یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بگ بینگ کس نے کیا، سبب الاسباب کون تھا، یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے انسان کی اصل آزمائش کا آغاز ہوتا ہے، اللہ نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے، اس نے اپنی محبت کی تجلی ڈالی اور کائنات وجود میں آ گئی، ستارے، کہکشائیں، وقت، مکان اور مادہ سب ایک منظم نظام کے تحت ظہور پذیر ہوئے مگر اس عظیم کارخانے میں ایک ڈرامہ بھی رچایا جانا تھا، ایک ایسا امتحان جس کے لیے متضاد قوتوں کی تخلیق ضروری تھی، ایک طرف نور کی مخلوق ملائکہ جو صرف اطاعت جانتی تھی اور دوسری طرف نار کی مخلوق جن جنہیں اختیار کی چنگاری دی گئی تھی، اور پھر ان دونوں کے درمیان مٹی کے گارے سے ایک ایسی مخلوق تخلیق کی گئی جسے انسان کہا گیا، ایک ایسی ہستی جس کے اندر اللہ نے اپنی روح پھونکی اور اسے کائنات کا مرکزی کردار بنا دیا، یہی وہ لمحہ تھا جہاں کائنات کا پہلا اور سب سے بڑا حسد پیدا ہوا، ابلیس جو جنات میں سے تھا مگر اپنی عبادت اور علم کی بدولت فرشتوں کا استاد بن بیٹھا تھا اس کے اندر تکبر جاگ اٹھا، اس کا مسئلہ خدا کا انکار نہیں تھا کیونکہ وہ خدا کو ہم سے بہتر جانتا تھا، اس نے خدا سے کلام کیا تھا، اس نے اس کی قدرت دیکھی تھی، اس کا مسئلہ انکارِ حکمتِ خدا تھا، وہ پہلا ریشنللسٹ تھا، پہلا عقل پرست تھا، اس نے مادے کا موازنہ کیا، اس نے قیاس کیا اور کہا میں آگ ہوں یہ مٹی ہے، آگ اوپر جاتی ہے مٹی نیچے رہتی ہے میں برتر ہوں میں سجدہ کیوں کروں، یہ منطق بظاہر درست تھی مگر یہ روحانی اندھے پن کی دلیل تھی کیونکہ ابلیس آدم کے جسم کو دیکھ سکا مگر اس کے اندر ودیعت کی گئی روحِ الٰہی اور علم الاسماء کو نہ دیکھ سکا، یہیں سے کائنات کی سب سے بڑی جنگ کا آغاز ہوا، اللہ نے اسے راندہ درگاہ کیا اور اس نے مہلت مانگی، مگر توبہ کے لیے نہیں بلکہ انسان کو گمراہ ثابت کرنے کے لیے، اس نے چیلنج کیا کہ میں ثابت کروں گا کہ یہ مٹی کا پتلا ناشکرا، جلد باز اور ہوس پرست ہے، یہ چیلنج اللہ کی خدائی کے خلاف نہیں بلکہ انسان کی خلافت کے خلاف تھا، اور اللہ نے اپنی حکمت کے تحت اس چیلنج کو قبول کیا تاکہ کھرے اور کھوٹے الگ ہو جائیں، تاکہ وہ انسان جو اختیار کے ساتھ شیطان کے بہکاوے کے باوجود اپنے رب کو پہچانے اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جائے، پھر آدم اور حوا کو جنت میں بسایا گیا جہاں شیطان نے پہلا نفسیاتی حملہ کیا، اس نے براہِ راست نافرمانی کا نہیں بلکہ ترقی، ہمیشگی اور اقتدار کا لالچ دیا، ملک لا یبلیٰ اور خلود کا خواب دکھایا، انسان کی کمزوری موت کے خوف اور طاقت کی خواہش کو چھیڑا، یہی فریب آج تک جاری ہے، آج کا انسان بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے موت پر قابو پانے اور خدا بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، آدم سے خطا ہوئی، زمین پر اتارا گیا، یہ سزا نہیں بلکہ امتحان گاہ کی طرف روانگی تھی، زمین پر ہابیل اور قابیل کا واقعہ پیش آیا، حسد نے پہلا انسانی خون بہایا، اور انسانیت حزب اللہ اور حزب الشیطان میں تقسیم ہو گئی، یہ خونریزی، یہ جنگیں، یہ فساد اسی ابلیسک ایجنڈے کا تسلسل ہیں جس کا مقصد انسان کو انسانیت سے گرا کر درندہ بنانا ہے،

تاریخ کا پہیہ گھومتا رہا، انبیاء آتے رہے، شیطان کے جال توڑتے رہے، نوح کے دور میں اس نے نیک لوگوں کی مورتیوں کو وسیلہ بنا کر شرک کی بنیاد رکھی، نمرود اور فرعون کے زمانے میں اس نے انسان کو خدائی کا دعویٰ سکھایا، فرعون کا انا ربکم الاعلیٰ کہنا ابلیس کا ماسٹر اسٹروک تھا، وہ چاہتا تھا کہ انسان خدا کو بھول کر انسان کی عبادت کرے، فرعونیت ایک شخص نہیں بلکہ ایک نظام تھا جو خوف، جادو اور غلامی پر قائم تھا، موسیٰ کا عصا حقیقت کی فتح تھا وہم پر مگر شیطان باز نہ آیا، بنی اسرائیل کو مذہبی تکبر، مادہ پرستی اور تحریف میں مبتلا کیا، انہیں یہ یقین دلوایا کہ وہ خدا کے چہیتے ہیں اور جواب دہ نہیں، یہی مذہبی غرور شیطان کا ایک اور ہتھیار ہے، اور آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ابلیس اپنی آخری اور سب سے بڑی چال چلنے والا ہے، یہ فتنہ دجال کا دور ہے، دجال صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظام ہے، ایک عالمی نظام جو حق کو باطل سے چھپاتا ہے، نیو ورلڈ آرڈر دراصل دجالی نظام کی عملی شکل ہے، اس کے پاس عالمی معیشت کا کنٹرول ہوگا، وہ موسموں پر اثر انداز ہوگا، زمین کے خزانوں کو نکالے گا، زندگی اور موت کا ڈرامہ رچائے گا، تیز رفتار سفر اور ڈیجیٹل دنیا اس کے ہتھیار ہوں گے، آج کی سائنس، میڈیا اور معیشت اس کے راستے ہموار کر رہی ہیں، دجال کا سب سے بڑا فتنہ انسان کو خدا سے بے نیاز کرنا ہے، آج کا انسان سمجھتا ہے کہ سائنس ہر مسئلے کا حل ہے، بیماری، بھوک، اداسی ہر چیز کا مادی جواب موجود ہے، یہی الحاد اور مادہ پرستی دجال کا قالین ہے، وہ کہے گا میں تمہارا رب ہوں، میں رزق دیتا ہوں، اور وہ لوگ جن کی نظر صرف مادی ترقی پر ہوگی اس کی ایک آنکھ دیکھ کر دھوکے میں آ جائیں گے، مگر جن کے دل میں ایمان ہوگا وہ اس کے ماتھے پر لکھا کفر پڑھ لیں گے، یہ بصیرت کی آنکھ سے پڑھا جائے گا، شیطان کا سب سے بڑا شاہکار سودی نظام ہے جس کے خلاف اللہ اور رسول نے جنگ کا اعلان کیا، کیونکہ سود انسان کو غلام بناتا ہے، دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ دیتا ہے، آج پوری دنیا آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے شکنجے میں ہے، یہ دجالی معیشت ہے، مسلمان سارا دن صرف بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، وہ بھول چکا ہے کہ وہ عبادت کے لیے پیدا ہوا تھا، شیطان نے اسے اسکرینوں، آسائشوں اور شور میں اس قدر الجھا دیا ہے کہ روح کی آواز دب گئی ہے، پھر آخری مرحلہ آئے گا، جب دجال عروج پر ہوگا، جب ایمان والوں کو چنا چنا کر ستایا جائے گا، تب اللہ آسمان سے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو اتارے گا، اصل مسیح جھوٹے مسیح کو بے نقاب کرے گا، یہ معرکہ ٹیکنالوجی اور روحانیت کا نہیں بلکہ حق اور باطل کا ہوگا، جیت ہمیشہ خالق کی ہوگی، اس کے بعد زمین عدل سے بھر جائے گی، اور آخرکار صور پھونکا جائے گا، سب کچھ فنا ہو جائے گا، صرف ایک ذات باقی رہے گی، اور وہ پکارے گا آج بادشاہت کس کی ہے، پھر خود جواب دے گا اللہ الواحد القہار، یہ داستان کوئی افسانہ نہیں بلکہ ہماری اپنی کہانی ہے، جنگ باہر نہیں ہمارے دلوں اور ذہنوں میں جاری ہے، فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ابلیس کے جھوٹے وعدوں پر یقین کریں یا اپنے رب کے وعدے پر، کیونکہ انجام ہمیشہ حق کا ہوتا ہے اور باطل صرف شور مچاتا ہے۔

Related posts

Leave a Comment